کبھی کوئی بات اتنی قائل کر دیتی ہے کہ بعد میں خیال آتا ہے: دلیل سمجھ میں آئی تھی، یا کہنے والے کے اعتماد پر یقین کر لیا تھا؟
سائنس پڑھتے ہوئے کبھی سوال اٹھتا ہے کہ انسانی رویّے سے متعلق ایک دریافت، انسان کی حقیقت کے بارے میں کسی بڑے نتیجے کی بنیاد کیسے بنتی ہے۔ اس میں کون سی دلیل کام کر رہی ہے، کون سے مفروضے؟
ممکن ہے نتیجہ مضبوط ہو۔ ممکن ہے کوئی کڑی میری سمجھ میں نہ آئی ہو۔
جب کوئی وضاحت ہمیں خود کو دیکھنے کا زاویہ دینے لگے، تو اس پر کتنا بھروسا کیا جائے؟