برسوں دین پڑھنے والے شخص کی زندگی میں ہم کیا دیکھنے کی توقع رکھتے ہیں؟

شاید سچ کہنے کی ہمت، جب سچ کہنا آسان نہ ہو۔ اختلاف میں انصاف، اور دوسرے کی بات سننے کا ظرف۔ مجھے احساس ہوا کہ میری توقع صرف علم کی نہیں تھی، اس کردار کی بھی تھی جسے اس علم نے سنوارا ہو۔

پھر ایسے رویّوں سے واسطہ پڑا جنہیں اُن باتوں سے جوڑنا مشکل تھا جو وہی لوگ جانتے بھی تھے اور سکھاتے بھی تھے۔ مجھے وہ آپ اور میرے جیسے عام انسان لگے، اپنی کمزوریوں کے ساتھ۔ اسی لیے سوال کو نظرانداز کرنا اور مشکل ہو گیا۔

کسی بات کو اتنا سمجھ لینا کہ دوسروں کو سمجھا سکیں، پھر بھی اپنے عمل میں اس کی جگہ نہ بنا پانا۔ اس فاصلے میں آخر کیا رہ جاتا ہے؟

شاید جاننے، ماننے اور بدلنے کو میں نے ایک ہی بات سمجھ لیا تھا۔

تو جو ہم جانتے ہیں، وہ ہماری زندگی کا حصہ کیسے بنتا ہے؟